اکتوبر 28, 2026

نواب سر فضل علی خاں: گجرات کا فراموش کردہ سر سید

رشحات قلم: ڈاکٹر سید امیر کھوکھر

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

بعض اوقات تاریخ اور مورخین کا مزاج بڑا عجیب بن جاتا ہے۔ وہ فاتحین کے گھوڑوں کی ٹاپ تو بڑے اہتمام سے محفوظ رکھتے ہیں، مگر ان ہاتھوں کی خراشیں بھول جاتے ہیں جنہوں نے اندھیرے میں چراغ جلائے ہوں، وہ شمشیر بدست حملہ آوروں کے تو گن گاتے ہیں مگر قلم کی ضیا بار کرنوں سے ہونے والی روشنی کو قصہ پارینہ بنا دیتے ہیں ،وہ ظلم و جبر کے علم برداروں کی حاشیہ بردار بن جاتے ہیں مگر انصاف پروروں کو گوشہ گمنامی میں دھکیلنے کی سعی مذموم میں سرگرداں نظر آتے ہیں۔گجرات کی علمی و سماجی تاریخ کا ایک ایسا ہی روشن مگر فراموش کردہ چراغ نواب سر فضل علی خان کا ہے، جسے اہلِ دل نے عقیدت سے اور بجا طور پر "سر سیدِ گجرات” کا لقب دیا، مگر سرکاری تاریخ نے اسے محض ایک حاشیے میں سمیٹ دیا۔
آج جب ہم گجرات ڈویژن کی سڑکوں پر نوجوانوں کو کالجوں اور یونیورسٹیوں کی طرف جاتے دیکھتے ہیں، ان کی آنکھوں میں ڈاکٹر، انجینئر اور افسر بننے کے خواب دیکھتے ہیں، تو دل میں ایک سوال اٹھتا ہے کہ کیا انہیں معلوم بھی ہے کہ ان خوابوں کی تعبیر کے لیے پہلی اینٹ کس مردِ درویش نے رکھی تھی؟ یقیناً وہ شخصیت نواب سر فضل علی کی تھی جس نے سر زمین گجرات پر علم و فضل کا چراغ تب روشن کیا جب ہر طرف جہالت کے ساتھ ساتھ مایوسی کے اندھیرے گہرے ہوتے جا رہے تھے۔
اجنالہ سے عدالت تک: ایک خوددار سفر
1881ء کا سال تھا۔ گجرات کے زرخیز قصبہ اجنالہ میں چوہدری سلطان علی کے گھر ایک بچے نے آنکھ کھولی جس کا نام فضل علی رکھا گیا۔ یہ وہ عہد تھا جب برصغیر پر انگریز کا اقتدار اپنے پورے جوبن پر تھا اور علم کی دولت پنجاب کے چند مخصوص خاندانوں اور بڑے شہروں تک محدود تھی۔ دیہات کے بیٹے کا مقدر صرف ہل چلانا سمجھا جاتا تھا اور اپنے خون پسینے کی کمائی سے وڈیروں اور حکومت کے حاشیہ برداروں کی شکم سیری کا ذریعہ قرار دیا جاتا تھا۔

وہ علم کے موتی، کتابیں اپنے آبا کی
جو دیکھیں ان کو یورپ میں دل ہوتا ہے سی پارہ

فضل علی نے اس جبری مقدر کے خلاف بغاوت کی۔ روایتی زمینداری کی پرآسائش زندگی کو ٹھکرا کر قلم کو اپنا ہتھیار بنایا۔ محض انیس برس کی عمر میں، 1900ء میں، انہوں نے پھالیہ میں بحیثیت آنریری مجسٹریٹ اور سب رجسٹرار اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا۔ اپنی خداداد ذہانت، بے مثال دیانت اور انصاف پروری سے انہوں نے جلد ہی اپنی پہچان بنا لی اور 1906ء میں سول جج کے معزز منصب پر فائز ہوئے۔
انگریز سرکار، جو عام طور پر ہندوستانیوں کی صلاحیتوں کی معترف نہیں تھی، ان کی قابلیت دیکھ کر حیران رہ گئی۔ چنانچہ اعزازات کی بارش ہوئی: 1906ء میں "خاں صاحب” کا خطاب، پھر "نواب” کا لقب اور آخر کار "سر” کا عظیم اعزاز۔ یوں چوہدری فضل علی، نواب سر فضل علی خاں بن گئے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان القابات نے انہیں معزز نہیں بنایا، بلکہ انہوں نے اپنے کردار سے ان القابات کو باوقار اور با اعتبار بنا دیا۔

وہ درد جو ایک مینارِ نور بن گیا

کہتے ہیں کہ نواب صاحب جب اپنی عدالت میں بیٹھتے تو ان کے سامنے دو طرح کے مقدمات آتے تھے۔ ایک زمین کے جھگڑے کا اور دوسرا جہالت کے اندھیرے کا۔ زمین کا جھگڑا تو قانون کی کتابوں میں حل ہو جاتا تھا، لیکن جہالت کا مقدمہ نسلوں تک انصاف کا منتظر رہتا تھا۔

علم کی شمع سے ہے تیرے شبستاں میں اجالا
تیری خاک کے ذرے تک جگنو و ستارہ

انہوں نے دیکھا کہ گجرات کا ایک ذہین ترین طالب علم بھی میٹرک کے بعد تعلیم جاری نہیں رکھ سکتا، کیونکہ اسے اعلیٰ تعلیم کے لیے لاہور یا سیالکوٹ اور بڑے شہروں کا رخ کرنا پڑتا تھا جس کے اخراجات اس کے غریب کسان باپ کی سکت سے باہر تھے۔ یہی کرب، یہی بے چینی ان کے دل میں ایک چنگاری بن گئی۔اسی چنگاری نے انہیں بے قرار کر دیا اور سر سید احمد خان کے نقشِ قدم پر چلنے پر مجبور کیا۔ انہوں نے سوچا کہ اگر علی گڑھ میں ایک کالج سے پوری مسلم قوم کی تقدیر بدل سکتی ہے تو گجرات میں کیوں نہیں۔
جب انہوں نے اپنے احباب کے سامنے اس عظیم خواب کا اظہار کیا تو کئی بااثر لوگوں نے اسے ایک دیوانے کا خواب سمجھا اور مذاق اڑایا، "نواب صاحب! یہ کام حکومتوں کے ہیں، کسی اکیلے زمیندار کے نہیں۔” تاریخ گواہ ہے کہ نواب صاحب نے بڑے تحمل سے جواب دیا تھا:

"حکومتیں عمارتیں بناتی ہیں، اور قومیں انسان بناتی ہیں۔”

زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری
جس قدر ہو یہ جلی، روشنی ہو دنیا میں

پھر جو ہوا وہ آج کے مادہ پرست دور میں ایک معجزہ لگتا ہے۔ انہوں نے اپنی سیکڑوں کنال قیمتی زرعی زمین اس تعلیمی ادارے کے لیے وقف کر دی، اپنی جیب سے خطیر سرمایہ لگایا اور خود گھر گھر جا کر چندہ اکٹھا کیا۔ 1914ء میں زمیندار ایجوکیشنل ایسوسی ایشن قائم کی اور 1915ء میں کولڈ سٹریم ہائی سکول کے نام سے اس عظیم درس گاہ کی بنیاد پڑی جسے آج ہم گورنمنٹ زمیندار ہائی سکول اور گورنمنٹ زمیندار گریجویٹ کالج گجرات کے نام سے جانتے ہیں۔
یہ محض اینٹوں اور گارے کی عمارت نہیں تھی، یہ گجرات کے مستقبل کا سنگِ بنیاد تھا۔ یہ وہ مینارِ نور تھا جس کی روشنی آج ایک صدی بعد بھی ہزاروں گھرانوں کو منور کر رہی ہے۔ اب تک اس ادارے سے ہزاروں تشنگان علم و ادب سیراب ہو کر پوری دنیا کے کونے کونے میں مختلف شعبہ ہائے زندگی میں کام کر رہے ہیں۔ تاریخ علم و ادب، سیاست، معاشیات، اور سائنس کے مختلف شعبوں میں نمایاں کردار ادا کرنے والے افراد کی ایک طویل فہرست ہے جو اس ادارے سے فیض یافتہ ہیں۔ اہل علم اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں۔ آج بھی اس ادارے میں ہزاروں طلبا و طالبات اپنے دامن کو علم و عرفان کے موتیوں سے مالا مال کر رہے ہیں۔ گورنمنٹ زمیندار گریجویٹ کالج گجرات کا شمار پنجاب کے ان چند کالجوں میں ہوتا ہے جس میں بہ یک وقت انٹرمیڈیٹ کے ساتھ ساتھ 21 شعبوں میں بی ایس کی کلاسز میں داخلہ جاری ہے۔اس کے موجودہ پرنسپل جناب ڈاکٹر حافظ احسان الحق نے اپنی ٹیم کے ساتھ تعلیم و تربیت اور نظم و ضبط کا ایک قابل رشک نمونہ قائم کر رکھا ہے جو عصر حاضر میں ایک مثالی درجے کا حامل ہے۔ گورنمنٹ زمیندار ہائی سکول کی جماعت ششم سے جماعت دہم کی تعلیم اس پہ مستزاد ہے۔زمیندار ہائی سکول کے پرنسپل جناب طاہر اسلام نے اس کی تزئین نو کے ساتھ ساتھ نظام تعلیم و تربیت اور صفائی کا اعلیٰ انتظام کرکے ایک بہترین منتظم ہونے کا ثبوت فراہم کیا ہے۔ اپنے قیام سے لے کر اب تک اس ادارے نے پنجاب بھر کے تعلیمی کارنامے، کھیلوں کے مقابلے میں اعزازات اور ادبی میدان میں اپنا لوہا منوایا ہے۔

ایوانِ اقتدار میں کسان کا وکیل

1937ء میں جب متحدہ ہندوستان میں انتخابات کا بگل بجا تو کسانوں اور زمینداروں کی نمائندہ جماعت یونینسٹ پارٹی نے انہیں اپنا امیدوار نامزد کیا۔ وہ بھاری اکثریت سے پنجاب قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور تاحیات یعنی 1942ء تک اس ایوان کا حصہ رہے۔

ہم کو مٹا سکے یہ زمانے میں دم نہیں
ہم سے زمانہ خود ہے، زمانے سے ہم نہیں

وہ ایوان میں جا کر ایوان کے ہو کر نہ رہے، بلکہ وہاں بھی وہ گجرات کے مظلوم کسان، محروم طالب علم اور بے سہارا غریب کے وکیل بن کر بولتے رہے۔ پنجاب اسمبلی کی پرانی کارروائیوں میں ان کی تقاریر آج بھی محفوظ ہیں جن کا خلاصہ صرف تین مطالبات تھے: کسان کو اس کی فصل کا پورا معاوضہ ملے، ہر تحصیل میں ایک معیاری تعلیمی ادارہ ہو، اور انصاف غریب کی دہلیز پر سستا فراہم ہو۔
1942ء میں، جب وہ ابھی رکنِ اسمبلی ہی تھے، 30اکتوبر کو اچانک ان کا انتقال ہو گیا۔ گجرات نے اس دن ایک نواب نہیں، ایک خیرخواہ ،ایک محسن اور ایک مربی کھو دیا۔

فراموشی کا نوحہ اور لمحہِ فکریہ

چراغِ علم جلایا، اندھیروں کو مٹا دیا
گجرات کی مٹی کو اس شخص نے جِلا دیا
آج المیہ یہ ہے کہ زمیندار کالج کے عظیم الشان مرکزی دروازے سے روزانہ ہزاروں طلبہ داخل ہوتے ہیں، مگر ان میں سے بیشتر اس ہستی کے نام سے بھی واقف نہیں جس نے یہ دروازہ بنایا جسے سرزمین گجرات میں "باب علم و فضل” کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا ۔ ہم نے اپنی درسی کتابوں میں سکندرِ اعظم سے لے کر لارڈ ماؤنٹ بیٹن تک سب کو جگہ دی، مگر اپنے ان محسنوں کے لیے دو سطریں تک نہ لکھ سکے جنہوں نے ہمیں پڑھنا لکھنا سکھایا اور جہالت کی آندھیوں میں بھی علم کا چراغ بجھنے نہ دیا۔
نواب سر فضل علی خان کی زندگی ہمیں یہ لازوال سبق دیتی ہے کہ اصل نوابی جاگیروں اور زمینوں سے نہیں، بلکہ ذہنوں کو جلا بخشنے، اور دلوں کو منور کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔
وہی ہے صاحبِ امروز جس نے اپنی ہمت سے
زمانے کے سمندر سے نکالا گوہرِ مقصود
حکومتِ پنجاب کو چاہیے کہ اس عظیم محسنِ تعلیم کے نام پر مختلف یونیورسٹیوں میں نواب سر فضل علی کے نام سے چیئرز قائم کی جائیں، اس کی خدمات پر سیمینار منعقد کیے جائیں اور سکولوں، کالجز اور یونیورسٹیوں کے تعلیمی نصاب میں ان کی تعلیمی و سماجی خدمات کو شامل کیا جائے۔ اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو یہ احسان فراموشی کے زمرے میں آئے گا اور جو قومیں اپنے چراغ جلانے والوں کو بھول جاتی ہیں، ان کے مقدر میں اندھیرے ہی رہ جاتے ہیں۔


مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں