اکتوبر 28, 2026

امریکا تسلیم کرے کہ معاملے کا کوئی فوجی حل نہیں، منصفانہ سمجھوتے کے لیے تیار ہیں: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ خلیج فارس میں آگے کا راستہ صرف اسی صورت میں نکل سکتا ہے جب امریکی حکومت واقعتاً اس بات کو تسلیم کر لے کہ اس کے پاس اس معاملے کا کوئی بھی فوجی حل موجود نہیں ہے۔

برطانوی اخبار ‘فائنانشل ٹائمز’ میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں ایرانی وزیر خارجہ نے لکھا کہ اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر انہوں نے جتنی بھی ملاقاتیں کیں، ان تمام کا ایک ہی واضح پیغام تھا کہ ایران امریکا کے ساتھ ایک منصفانہ اور آبرومندانہ سمجھوتہ چاہتا ہے۔

عباس عراقچی نے مزید کہا کہ اگر امریکا اپنی جارحیت ختم کرنے کی حقیقی خواہش ظاہر کرے تو ایران پرامن تصفیے اور ساتھ ہی اپنے دفاع کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ تاہم انہوں نے شکوہ کیا کہ ایران کو فی الوقت امریکی حکومت کے امن کے خلوص پر بالکل بھی اعتبار نہیں ہے، کیونکہ ماضی میں مذاکرات کے جاری رہنے کے دوران ہی امریکا نے ایران پر بمباری کی اور ایک معاہدے پر دستخط ہونے کے باوجود ایران پر تیسری مرتبہ حملہ کیا گیا۔