اکتوبر 28, 2026

اسٹیشنوں کی سجاوٹ نہیں، مسافروں کی حفاظت اولین ترجیح ہونی چاہیے

تحریر: محمد انور بھٹی

پاکستان ریلوے کے اسٹیشنوں کی تزئین و آرائش، مسافروں کے لیے بہتر سہولتوں کی فراہمی، جدید ڈائننگ کاروں کا قیام اور ریلوے کے ماحول کو خوش نما بنانے کے اقدامات اپنی جگہ اہم ہیں لیکن ان تمام کوششوں کی افادیت اس وقت سوالیہ نشان بن جاتی ہے جب ریل کا مسافر خود کو محفوظ محسوس نہ کرے۔ کسی بھی قومی ادارے کی ترقی کا اصل معیار اس کی عمارتوں کی خوب صورتی، پلیٹ فارموں کی چمک دمک یا مسافروں کو فراہم کی جانے والی ظاہری آسائشیں نہیں ہوتیں بلکہ اس ادارے کی بنیادی ذمہ داریوں کی ادائیگی، خدمات کا معیار، انتظامی شفافیت اور انسانی جانوں کا تحفظ ہوتا ہے۔ پاکستان ریلوے کے حوالے سے آج سب سے اہم عوامی سوال یہی ہے کہ اگر مسافر کو دوران سفر اپنی جان کی سلامتی کے بارے میں خدشات لاحق ہوں تو اسٹیشنوں کی سجاوٹ اور ڈائننگ کاروں کی بہتری سے حاصل ہونے والے فوائد کو کس نظر سے دیکھا جائے۔ ریلوے کی ترقی کا خیر مقدم ضرور کیا جانا چاہیے۔مگر ترقی کی ترجیحات کا تعین کرتے وقت اس حقیقت کو فراموش نہیں کیا جا سکتا کہ مسافر ٹرین میں محض سفر کرنے کے لیے نہیں بیٹھتے ہیں بلکہ وہ اپنی زندگی اور اپنے خاندان کی امیدوں کو ساتھ لے کر منزل کی طرف روانہ ہوتے ہے۔ ان کے لیے سب سے بڑی سہولت یہ ہے کہ وہ مقررہ وقت پر ٹرین میں سوار ہوں اطمینان کے ساتھ سفر کریں اور بحفاظت اپنی منزل پر پہنچ جائیں۔
رحمان بابا ایکسپریس کے حالیہ حادثے سمیت ریلوے میں پیش آنے والے مختلف حادثات اور تکنیکی خرابیوں سے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات نے ایک مرتبہ پھر کئی بنیادی سوالات کو جنم دیا ہے۔ ان واقعات کی وجوہات کا تعین محض بیانات سے نہیں بلکہ غیر جانب دارانہ تحقیقات، فنی معائنے اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ تاہم ایک بنیادی حقیقت ایسی ہے جسے کسی تحقیقاتی رپورٹ کے انتظار میں بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہےکہ ریلوے کے نظام میں سامنے آنے والی ہر تکنیکی خرابی کو سنجیدگی سے لینا ضروری ہے۔ حادثات ہمیشہ ایک ہی نوعیت کے نہیں ہوتے اور ہر تکنیکی خرابی لازماً کسی بڑے سانحے کا پیش خیمہ بھی نہیں بنتی لیکن جب چھوٹے چھوٹے واقعات معمول کا حصہ بننے لگیں اور ان کے اسباب دور کرنے کے بجائے انہیں روزمرہ کی خبروں میں شمار کرکے فراموش کر دیا جائے تو یہ طرز عمل خود ایک بڑا انتظامی مسئلہ بن جاتا ہے۔ ایک انجن کا فیل ہونا، کسی کوچ کا پٹری سے اترنا، بریکوں کا درست طور پر کام نہ کرنا یا ٹرین کو منزل تک پہنچانے کے لیے متبادل انتظامات کی ضرورت پیش آنا محض الگ الگ واقعات نہیں ہیں بلکہ ایسے معاملات ہیں جن کا باقاعدہ ریکارڈ مرتب ہونا چاہیے اور ان کے اسباب کا جائزہ لے کر یہ معلوم کیا جانا چاہیے کہ خرابی اچانک پیدا ہوئی مرمت میں کوتاہی ہوئی مقررہ معائنے کا نظام کمزور تھا یا کسی دوسرے انتظامی مسئلے نے صورت حال کو جنم دیا۔ ریلوے کی بہتری کا تقاضا یہ ہے کہ حادثہ پیش آنے کے بعد کارروائی کرنے کے بجائے حادثے کے امکانات کم کرنے کے لیے پہلے سے اقدامات کیے جائیں۔
اطلاعات کے مطابق ایک ہی دن میں تین انجنوں کے فیل ہونے ٹرینوں کے لیے پاور وین کی عدم دستیابی گوجر خان کے علاقے میں کوچ کے پٹری سے اترنے کے واقعات مال گاڑیوں کے انجنوں کے اوورشوٹ ہونے اور مسافر ٹرینوں کی بریکوں میں خرابی کے باعث انہیں ریت میں دھکیل کر روکنے جیسے معاملات پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ان اطلاعات کی تصدیق اور ہر واقعے کی نوعیت کے مطابق فنی جانچ ضروری ہے کیونکہ عوام کو محض اعداد و شمار یا غیر مصدقہ خبروں کی بنیاد پر کسی نتیجے تک پہنچانے کے بجائے حقائق فراہم کرنا متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان ریلوے کے پاس ان تمام واقعات کا جامع ریکارڈ موجود ہے کیا انجنوں اور کوچوں کی فنی حالت کی باقاعدہ نگرانی کی جاتی ہے کیا بریکوں، پہیوں، ایکسلوں اور دیگر اہم حصوں کے معائنے مقررہ نظام الاوقات کے مطابق ہوتے ہیں اور کیا کسی خرابی کی نشاندہی ہونے پر متعلقہ انجن یا کوچ کو مکمل طور پر درست کیے بغیر دوبارہ سروس میں شامل ہونے سے روکا جاتا ہے۔ اگر یہ تمام انتظامات موجود ہیں تو ان کی کارکردگی اور نتائج عوام کے سامنے آنے چاہییں اور اگر کہیں خامی موجود ہے تو اسے تسلیم کرکے دور کیا جانا چاہیے۔ کسی ادارے کی ساکھ غلطی چھپانے سے نہیں بلکہ غلطی کی نشاندہی، ذمہ داری کے تعین اور اصلاحی اقدامات سے قائم ہوتی ہے۔
پاکستان ریلوے کو سب سے پہلے اپنے حفاظتی نظام کا جامع اور قابل تصدیق جائزہ لینا چاہیے۔ ملک بھر میں استعمال ہونے والے انجنوں، مسافر کوچوں اور مال گاڑیوں کے فنی معائنے کی صورت حال کا جائزہ لے کر یہ واضح کیا جائے کہ کتنے انجن اور کوچیں مکمل طور پر قابل استعمال ہیں کن گاڑیوں کو مرمت درکار ہے اور کہاں پرانی مشینری یا پرزوں کی عدم دستیابی مسائل پیدا کر رہی ہے۔ جن انجنوں یا کوچوں میں حفاظتی نوعیت کی خرابی موجود ہو انہیں محض آپریشنل ضرورت یا ٹرینوں کی روانگی کا دباؤ پورا کرنے کے لیے سروس میں شامل نہ کیا جائے۔ اسی طرح پاور وین کی دستیابی اور ضرورت کا بھی حقیقت پسندانہ جائزہ لیا جائے کیونکہ بجلی کی فراہمی، روشنی اور متعلقہ نظاموں کی قابل اعتماد کارکردگی مسافروں کے لیے اہم ہے۔ جہاں پاور وین ضروری ہوں وہاں ان کی دستیابی یقینی بنائی جائے جبکہ متبادل انتظامات بھی پہلے سے طے ہونے چاہییں۔ ریلوے کے پاس وسائل محدود ہوں تو ان کے استعمال میں ترجیحات کا تعین مزید ذمہ داری کے ساتھ کیا جانا چاہیے۔ غیر ضروری اخراجات میں کمی، پرزوں کی بروقت خریداری، مرمت کے نظام میں شفافیت اور دستیاب بجٹ کے مؤثر استعمال کے ذریعے حفاظتی ضروریات کو ترجیح دی جا سکتی ہے۔ اس مقصد کے لیے محض نئی پالیسی کا اعلان کافی نہیں ہے بلکہ اس پر عمل درآمد، نگرانی اور نتائج کی جانچ بھی لازمی ہے۔
ریلوے کے حفاظتی مسائل کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ کسی کوچ کے پٹری سے اترنے کے بعد صرف متاثرہ گاڑی کو دوبارہ پٹری پر چڑھا دینا مسئلے کا مکمل حل نہیں ہوتا۔ اصل ضرورت اس سبب تک پہنچنے کی ہے جس نے حادثے کو جنم دیا۔ پٹری کی حالت، جوڑوں، سلیپرز، بیلسٹ، سگنلنگ، رفتار کی پابندیوں، پہیوں، ایکسلوں اور متعلقہ فنی نظاموں کا جائزہ لے کر یہ طے کیا جائے کہ خرابی کہاں پیدا ہوئی اور آئندہ اس کی روک تھام کیسے ممکن ہے۔ اگر کسی مقام پر ایک بار ڈریلمنٹ ہو چکی ہو تو اس مقام کا خصوصی معائنہ ہونا چاہیے اور جب تک حفاظتی اطمینان حاصل نہ ہو وہاں ٹرینوں کی آمدورفت کے لیے مناسب احتیاطی تدابیر اختیار کی جانی چاہییں۔ اسی طرح بریکوں کی خرابی سے متعلق واقعات میں بھی یہ دیکھنا ضروری ہے کہ آیا مسئلہ انجن میں تھا کوچوں کے بریکنگ نظام میں تھا مرمت کے معیار میں ہےیا پھرآپریشنل طریقہ کار میں ہے ہر واقعے کی الگ تحقیق اور تکنیکی رپورٹ تیار ہونی چاہیے کیونکہ تمام خرابیوں کو ایک ہی وجہ سے منسوب کرنا درست نہیں۔ ریلوے کے ماہرین، انجینئرز اور حفاظتی عملے کو بااختیار بنانا اور ان کی فنی سفارشات پر بروقت عمل کرنا کسی بھی مؤثر اصلاحی نظام کی بنیادی ضرورت ہے۔
مال گاڑیوں کے انجنوں کے اوورشوٹ ہونے یا کسی دوسری غیر معمولی صورت حال کے بارے میں بھی محض واقعے کی اطلاع جاری کرکے معاملہ ختم نہیں ہونا چاہیے۔ متعلقہ حکام کو یہ جانچنا چاہیے کہ انجن اور بریکوں کی کارکردگی، سگنلنگ، رفتار پر قابو رکھنے کے طریقہ کار، ڈرائیوروں کی تربیت اور آپریشنل نگرانی میں کہیں کوئی کمزوری تو موجود نہیں ہے اگر کسی معاملے میں انسانی غلطی سامنے آئے تو اس کی نوعیت اور اسباب کا تعین کیا جائے۔ لیکن ہر واقعے کا بوجھ کسی ایک ملازم پر ڈال کر نظامی خامیوں سے صرف نظر کرنا بھی انصاف کے تقاضوں کے مطابق نہیں ہے۔ تربیت، مناسب اوقات کار، فنی معاونت، ضروری آلات اور واضح ذمہ داریوں کے بغیر محفوظ آپریشن کی توقع نہیں کی جا سکتی ہے اسی طرح متعلقہ افسران کی ذمہ داری بھی متعین ہونی چاہیے کہ وہ مقررہ معائنے، مرمت اور حفاظتی ہدایات پر عمل درآمد یقینی بنائیں۔ احتساب کا مقصد محض سزا دینا نہیں بلکہ ایسے انتظامات قائم کرنا ہے جن کے نتیجے میں غلطی کے امکانات کم ہوں اور ادارہ اپنی کارکردگی بہتر بنا سکے۔
عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے قومی اداروں سے سوال کریں اور ان سوالات کے جواب بھی مانگیں۔ پاکستان ریلوے کے حکام کو چاہیے کہ وہ حادثات، ڈریلمنٹ، انجنوں کی خرابیوں اور بریکوں سے متعلق واقعات کا مستند ریکارڈ باقاعدگی سے جاری کریں۔ ہر بڑے حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ مقررہ مدت میں مکمل کرکے، جہاں ممکن ہو، اس کے نتائج عوام کے سامنے رکھے جائیں۔ رپورٹ میں حادثے کی وجوہات، ذمہ داری کے تعین، حفاظتی خامیوں اور اصلاحی اقدامات کی تفصیل شامل ہو۔ اس کے ساتھ یہ بھی بتایا جائے کہ پہلے سے دی گئی سفارشات پر کتنا عمل ہوا اور کون سے اقدامات ابھی باقی ہیں۔ محض یہ کہنا کافی نہیں کہ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔ عوام کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ تحقیق کب مکمل ہوگی اس کے نتائج کب سامنے آئیں گے اور اس کے نتیجے میں عملی طور پر کیا تبدیلی لائی جائے گی۔ جہاں تکنیکی یا قانونی وجوہات کی بنا پر معلومات فوری طور پر جاری نہ کی جا سکیں وہاں بھی مناسب وضاحت اور متوقع مدت فراہم کی جانی چاہیے۔ شفافیت سے ادارے کمزور نہیں ہوتے بلکہ اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے اور اصلاحی عمل کی نگرانی ممکن بنتی ہے۔
یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ ریلوے کے نظام کی بہتری کے لیے وسائل، فنی مہارت، جدید آلات اور مناسب منصوبہ بندی درکار ہوتی ہے۔ برسوں سے استعمال ہونے والے انجنوں، کوچوں اور پٹریوں کی دیکھ بھال ایک مسلسل عمل ہے جس کے لیے طویل مدتی حکمت عملی بنانا ضروری ہے۔ ہر مسئلے کا فوری حل ممکن نہیں ہوتا لیکن اس حقیقت کو تاخیر یا غفلت کا جواز بھی نہیں بنایا جا سکتا۔ حکومت اور ریلوے انتظامیہ کو حفاظتی ضروریات کے لیے مناسب بجٹ مختص کرنا چاہیے اور یہ بھی یقینی بنانا چاہیے کہ رقم واقعی مرمت، فنی بہتری، تربیت اور ضروری آلات کی فراہمی پر خرچ ہو۔ خریداری اور ٹھیکوں کے نظام میں شفافیت، معیاری پرزوں کی دستیابی، ورکشاپوں کی استعداد میں اضافہ اور فنی عملے کی تربیت پر خصوصی توجہ دی جائے۔ جہاں نئی ٹیکنالوجی مؤثر ثابت ہو سکتی ہو وہاں اس کے استعمال کا جائزہ لیا جائے لیکن جدیدیت کے نام پر ایسے منصوبوں کو ترجیح نہ دی جائے جن سے بنیادی حفاظتی ضروریات پس پشت چلی جائیں۔ ترقی کا درست راستہ وہی ہے جس میں موجودہ نظام کی خامیوں کو دور کرنے کے ساتھ مستقبل کی ضروریات کو بھی سامنے رکھا جائے۔
اسٹیشنوں کی تزئین و آرائش اور مسافروں کے لیے بہتر سہولتوں کی فراہمی پر اعتراض نہیں ہے لیکن عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان منصوبوں کے ساتھ ریلوے کے بنیادی ڈھانچے کی حفاظت کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ کیا ٹرینوں کی تاخیر کم کرنے کے لیے انجنوں اور کوچوں کی دستیابی بہتر بنائی جا رہی ہے؟ کیا خراب پٹریوں کی نشاندہی اور مرمت کے لیے مؤثر نظام موجود ہے؟ کیا حفاظتی عملے کو ضروری وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں؟ کیا حادثات کے بعد جاری ہونے والی سفارشات پر عمل درآمد کی نگرانی کی جاتی ہے؟ اور کیا عام مسافر کو شکایت درج کرانے اور اس کا جواب حاصل کرنے اور اپنی شکایت پر ہونے والی کارروائی جاننے کا مؤثر طریقہ میسر ہے؟ ان سوالات کے جواب محض تشہیری مہمات یا رسمی بیانات سے نہیں مل سکتےہیں بلکہ عملی کارکردگی اور قابل تصدیق نتائج سے ملیں گے۔ ریلوے انتظامیہ کو مسافروں کی شکایات کے ازالے کے لیے واضح طریقہ کار وضع کرنا چاہیے اور اس کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے باقاعدہ اعداد و شمار جاری کرنے چاہییں۔
پاکستان ریلوے ایک ایسا قومی ادارہ ہے جس سے لاکھوں افراد کے سفر، روزگار، تجارت اور معاشی سرگرمیوں کا تعلق ہے۔ اس کی بہتری محض انتظامیہ کی ضرورت نہیں بلکہ قومی مفاد کا تقاضا ہے۔ اسی لیے ریلوے پر تنقید کو ادارے کی مخالفت سمجھنے کے بجائے اصلاح کے موقع کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ تعمیری تنقید کا مقصد کسی فرد یا ادارے کی تضحیک نہیں بلکہ خامیوں کی نشاندہی اور بہتری کے لیے قابل عمل تجاویز پیش کرنا ہے۔ عوام کا سوال بھی یہی ہے کہ جب حادثات اور تکنیکی خرابیوں کی اطلاعات مسلسل سامنے آتی ہیں تو ان کے اسباب کا مستقل حل کیوں نظر نہیں آتا۔ اگر کہیں انتظامی کمزوری ہے تو اسے دور کیا جائے اگر وسائل کی کمی ہے تو اس کے حل کے لیے واضح منصوبہ پیش کیا جائے اگر نگرانی میں نقص ہے تو مؤثر احتساب کا نظام قائم کیا جائے اور اگر کسی سطح پر غفلت ثابت ہوتی ہے تو قانون اور ضابطے کے مطابق کارروائی کی جائے۔ اس پورے عمل میں دیانت داری، شفافیت اور انسانی جان کی حرمت کو مقدم رکھا جانا چاہیے۔
حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی ریلوے نظام کی کامیابی کا اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب ٹرین چلتی ہے مسافر اس میں سفر کرتا ہے اور اپنے مقررہ مقام پر بحفاظت پہنچتا ہے۔ خوب صورت پلیٹ فارم، روشن انتظار گاہیں، صاف ستھرے بیت الخلا اور معیاری ڈائننگ کاریں یقیناً اچھی سہولتیں ہیں لیکن ان کی اہمیت اسی وقت مکمل ہوتی ہے جب ان کے ساتھ محفوظ اور قابل اعتماد سفر بھی میسر ہو۔ پاکستان ریلوے کے متعلقہ حکام کو اب واضح ترجیحات کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ انجنوں اور کوچوں کی فنی جانچ، پٹریوں کی باقاعدہ نگرانی، بریکنگ اور سگنلنگ کے نظام کی بہتری، حادثات کی شفاف تحقیقات، ذمہ داری کا تعین، اصلاحی اقدامات کی مقررہ مدت اور عوام کو پیش رفت سے آگاہ کرنا محض تجاویز نہیں بلکہ وہ بنیادی تقاضے ہیں جن پر ایک محفوظ ریلوے نظام کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔ آخر میں سوال وہی ہے کہ اسٹیشنوں کی سجاوٹ کا ہم کیا کریں اگر مسافر کے دل میں سفر کے دوران تحفظ کا اعتماد ہی پیدا نہ ہو۔ پاکستان ریلوے کی اصل پہچان عمارتوں کی چمک دمک نہیں بلکہ اس کی پٹریوں پر چلنے والی ٹرینوں کا محفوظ سفر ہونا چاہیے، کیونکہ ترقی وہی معتبر ہوتی ہے جس میں انسان کی جان کو ہر دوسری ترجیح پر فوقیت حاصل ہو۔