ستمبر 22, 2026

لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ: محمد رضوان کی این سی سی آئی اے انکوائری کے خلاف درخواست مسترد، ہراساں نہ کرنے کی ہدایت

لاہور ہائی کورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کرکٹر محمد رضوان کی جانب سے این سی سی آئی اے کی انکوائری کے خلاف دائر کردہ درخواست مسترد کرتے ہوئے تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ این سی سی آئی اے آن لائن بیٹنگ اور جوئے سے متعلق انکوائری کر رہا ہے اور سائبر پٹرولنگ کے دوران حاصل معلومات سے محمد رضوان کا اس معاملے سے تعلق سامنے آیا ہے، جو کہ پیکا ایکٹ 2016 کی دفعہ 14 اور ناجائز مالی فائدے کے دائرے میں آتا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ آئی سی سی کا اینٹی کرپشن کوڈ ریاستی مجاز ادارے کی قانونی انکوائری میں رکاوٹ نہیں بن سکتا اور نہ ہی اس کے ضابطے کو بنیاد بنا کر فوجداری کارروائی سے بچا جا سکتا ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ کال اپ نوٹس بذات خود کسی پر جرم عائد نہیں کرتا اور این سی سی آئی اے کی انکوائری بدنیتی پر مبنی یا دائرہ اختیار سے باہر نہیں ہے، لہذا ابتدائی مرحلے پر مداخلت نہیں کی جا سکتی۔ تاہم، عدالت نے محمد رضوان کو انکوائری میں تعاون کی ہدایت کرتے ہوئے این سی سی آئی اے کو حکم دیا ہے کہ وہ کرکٹر کو ہراساں یا غیر ضروری زحمت نہ دے، قانون کے مطابق انکوائری کرے، جبکہ ضبط شدہ اشیاء کی واپسی کے لیے متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی بھی اجازت دی گئی ہے۔